مسئلہ-22: استفہامیہ یا حکمیہ جملے کے ذریعے ایجاب و قبول:
ایجاب و قبول تحریر کے ذریعے ہو یا زبانی ہو، دونوں صورتوں میں ضروری ہے کہ سوالیہ (استفہامیہ) یا امریہ (حکمیہ) جملہ نہ ہو، کیونکہ اس طرح جملے حتمی پیشکش یا قبول کے لیے نہیں بولے جا سکتے، البتہ ایسے جملوں کے بعد اگر حتمی ایجاب و قبول کے جملے بھی بولے گئے، مثلاً: خریدار نے کہا: ’’کیا آپ نے مجھے یہ چیز فروخت کر دی؟ فروخت کرنے والے نے کہا: ’’ہاں‘‘، تو یہاں تک معاملہ مکمل نہیں ہوا، لیکن اگر اس کے بعد خریدار یہ کہے: میں نے یہ چیز خرید لی، تو اب معاملہ مکمل ہو جائے گا۔

نیزحکمیہ جملہ کے بعد بھی اگر اس طرح دوبارہ ایجاب و قبول ہو جائے، تو معاملہ وجود میں آئے گا، ورنہ نہیں۔ البتہ فقہائے حنابلہ کے ہاں حکمیہ جملے سے بھی بیع کا ایجاب ہو سکتا ہے، لہذا اگر ایک شخص کہہ دے: مجھے یہ چیز بیچ دو اور دوسر اکہہ دے: بیچ دی، تو بھی ایک درست بیع شمار ہو گی۔ آج کل چونکہ عموماً اس طرح کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، لہذا حنابلہ کے قول پر عمل کرنے اور فتویٰ دینے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ (الموسوعۃ الفقہیہ: مادہ بیع، بحث رکن البیع)

مسئلہ23: ضمنی ایجاب و قبول کا حکم:
اگر حکمیہ جملہ ایسا ہو جس کے اندر ضمنی طور پر فی الحال ایجاب کا معنی موجود ہو تو اس طرح کے حکمیہ جملے کے ذریعے بھی (فقہائے احناف کے نزدیک) ایجاب کیا جا سکتا ہے، مثلا:اگر اثاثہ کا مالک کہے:یہ چیز اتنے میں لے لو، اور سامنے والاکہے: میں نے لے لی۔ تو اس طرح کہنے سے بھی بیع وجود میں آئے گی۔ اس طرح حکمیہ جملے کے علاوہ بھی کوئی جملہ ایسا ہو جو بظاہر تو ایجاب یا قبول کی صلاحیت نہیں رکھتا، لیکن اس میں ضمنا ایجاب یا قبول کا معنی موجود ہو تو اس کے ذریعے کیا ہوا معاملہ بھی درست ہو گا، مثلاً: ایک شخص اثاثے کے مالک سے کہتا ہے: یہ چیز میں نے آپ سے اتنے میں خرید لی، اور اثاثہ کا مالک کہے: اللہ آپ کے سودے میں برکت ڈال دے، یا یوں کہہ دے: مبارک ہو (جبکہ یہ ظاہر نہ ہو کہ مقصد مذاق اڑانا ہے) تو اس طرح کہنا بھی قبول شمار ہو گا۔(الموسوعۃ الفقہیہ: مادہ بیع، بحث رکن البیع)

مسئلہ-24: خرید و فروخت کی پیشکش کب تک برقرار رہے گی؟
خرید و فروخت کسی بھی معاملے کو وجود میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ فریق اول کا ایجاب (پیشکش) فریق ثانی کے قبول ہونے تک باقی رہے، فریق اول کے ایجاب کے باقی رہنے کے لیے درج ذیل چار امور کا پایا جانا ضروری ہے۔ ایجاب کے بعد قبول کے مؤثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ
1 فریق اول نے اپنے ایجاب اور پیشکش سے رجوع نہ کیا ہو
2 فریق اول کی طرف سے قبول کے لیے کوئی تاریخ اگر طے ہوئی ہو تو وہ تاریخ گزری نہ ہو
3 جس چیز سے متعلق ایجاب ہوا تھا وہ چیز اپنی حالت پر برقرار ہو،اس میں جزوی یا کلی ہلاکت یا تبدیلی واقع نہ ہوئی ہو
4 ایجاب کرنے والا بقید حیات ہو۔ جب ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہو گی تو ایجاب کے بعد قبول کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا اور اس سے شرعاً کوئی معاملہ وجود میں نہیں آ سکے گا

مسئلہ-25: مالی معاملات میں غیر سنجیدہ ایجاب و قبول کا حکم:
ایجاب و قبول کے مؤثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول کرتے وقت سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے، لہذا اگر معاملہ کرنے والے پہلے سے یہ سمجھوتہ کریں کہ ہم (کسی قانونی مجبوری یا کے کسی دباؤ کے تحت) صرف دکھاوے کے لیے ظاہری طور پر معاملہ کریں گے، حقیقت میں نہیں تو اس طرح کے سمجھوتے کے بعد جو معاملہ انجام دیا جائے گا، وہ ایک غیر سنجیدہ معاملہ ہونے کی وجہ سے شرعاً قابل اعتبار نہ ہو گا۔ اس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ہزل‘‘ کہا جاتا ہے جس کی مزید تفصیل بیع فاسد کے تحت آئے گی۔

وضاحت 1
مسئلہ نمبر 25 کا حکم اس وقت ہو گا، جب معاملہ کرنے والے دونوں اس سمجھوتے پر متفق ہوں، اگر دونوں اس طرح کرنے پر متفق نہ ہوں، بلکہ ایک تو سنجیدہ ہو کر معاملہ کر رہا ہو اور دوسرے کا مقصد حقیقی معاملہ کرنا نہ ہو، تو ایسی صورت میں یہ معاملہ سنجیدہ اور مؤثر سمجھا جائے گا، کیونکہ شرعی لحاظ سے معاملات میں اصول یہ ہے کہ انہیں سنجیدگی پر ہی محمول کیا جائے گا، الا یہ کہ غیر سنجیدگی (ہزل) جانبین کی طرف سے یقینی طور پر ثابت ہو جائے۔

وضاحت 2
اگر فریقین کا اس میں اختلاف ہو کہ جو معاملہ انجام دیا گیا تھا وہ ایک سنجیدہ معاملہ تھا یا کسی دباؤ کے تحت صرف دکھاوے کی حد تک معاملہ تھا تو ایسی صورت میں اس فریق کی بات درست تصور ہو گی جو اس معاملہ کو حقیقی اور سنجیدہ قرار دے رہا ہو، کیونکہ معاملات میں اصول یہ ہے کہ انہیں حقیقت اور سنجیدگی پر محمول کیا جائے۔