کمپنی کلچر اور تبدیلی

خوشی ایسی نعمت ہے جس کی آرزو سبھی کو ہے۔ یہ حقیقت ہے جس شخص کے پاس خوشی نہیں، اس کےتبدیلی بزنس کا اہم ترین حصہ ہے۔ صنعت وتجارت سے وابستہ ہر شخص اور ہر کمپنی کو ترقی کے لیے مثبت تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کے دور میں اس کے بغیر رہنا پیشہ ورانہ خودکشی کے مترادف ہے۔ زمانہ جس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے، اس کے ساتھ چلنے کے لیے آپ کو اپنا طریقہئ کار وقتاً فوقتاً بدلنا ہو گا۔ زمانے کے تقاضوں کے مطابق نئے آئیڈیاز سوچ کر جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لانا پڑے گا۔ اس کی اہمیت روز روشن کی طرح واضح ہے، لیکن اس تبدیلی کو منظم طریقے سے وجود میں لانا اور برقرار رکھنا پہاڑ ہلانے جیسا اقدام محسوس ہوتا ہے۔ انسان اس کی ضرورت محسوس کرنے کے باوجود یہ سوچ کر مایوس ہو جاتا ہے کہ میں یہ کام کیسے کروں؟ کیونکہ دوسرے لوگ مانوس چیزوں سے محبت کرتے اور انہی سے وابستہ رہتے ہیں۔ وہ سب کچھ جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور اسلامی تعلیمات

اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ اپنے ملازمین اور ماتحتوں کے ساتھ اچھا سلوک رکھا جائے۔ افسران اور ماتحتوں کے درمیان دوریاں اور فاصلے جہاں افراد کے لیے نقصان دہ ہیں، وہیں ہر کمپنی اور ادارے کے لیے بھی تباہ کن ہیں۔ آئیے! دیکھتے ہیں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں کارکنوں اور ماتحتوں کی حوصلہ افزائی سے متعلق کیا ہدایات ملتی ہیں:

مزید پڑھیے۔۔۔

امانت کی پاسداری

امانت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے: کسی چیز کو اس کے مستحق تک پہنچانا یا کسی کام کو اس کے درست تقاضوں کے مطابق پورا کرنا۔ قرآن و سنت میں امانت کی ادائیگی اور اس کو صحیح طریقے کے مطابق انجام دینے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ قرآن مقدّس میں ارشاد ہے: إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا (النسائ: 58) یعنی: ’’بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں تک ان کی امانتیں پہنچاؤ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارتی مقابلہ اور سچ کی طاقت

کھیل کا میدان ہو یا تجارت کا۔ ہر جگہ کوئی نہ کوئی مقابل موجود ہوتا ہے۔ فٹ بال کے میدان میں ایک ہی شخص موجود ہو اور مسلسل گول پر گول کرتا چلا جائے۔ اسے کھلاڑی شمار کیا جا سکتا ہے نہ ہی اس کے کیے ہوئے گول کی کوئی قیمت ہو گی۔ اس لیے کہ یہاں کوئی مقابل موجود تھا، نہ ہی وہ کسی امتحان یا دشواری میں پڑا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے اور پھر دیکھنے میں آتا ہے کہ کبھی کبھی پورے میچ میں کوئی گول نہیں کر پاتا۔ اگر کر بھی لے تو اُس کے لیے قانون کے مطابق ہونا ضروری ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کاسٹ آف منی

حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جب کسی کو قرضہ دیتے تھے تو اس کی دیوار کے سائے میں سے بھی نہیں گزرتے تھے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ چھاؤں کی ٹھنڈک سے تھوڑی دیر کے لیے راحت مل جائے اور میں قرض کے ذریعے کسی طرح کا فائدہ حاصل نہ کر بیھٹوں! امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اس عمل کی وجہ آخر کیا تھی؟ وہ کیوں اتنی تکلیف گوارا کرتے تھے؟

مزید پڑھیے۔۔۔

ملاوٹ اور دھوکہ دہی

’’ملاوٹ‘‘ کسی بھی اصل چیز میں اُس جیسی کسی نقلی چیز کو اس لیے ملایا جائے تاکہ اصل کے برابر نقل چیز کا بھی فائدہ ہو۔ یہ کام آج کل مسلمان تجارت پیشہ حضرات بھی کر رہے ہیں۔ حرام کو حلال میں ملانا بھی جرم ہے۔ ا للہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اُن قوموں کی تباہی کا ذکر فرمایا ہے جو ناپ تول میں کمی کرتے تھے اور ملاوٹ میں ملوث تھے۔
ایک بار آپ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ منورہ کے بازار میں تشریف لے گئے اور دیکھا کہ اناج کا ڈھیر لگا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔