Here Are The Jobs

ملازمین کے ساتھ اچھے سلوک نے اسے ویگمنز کمپنی کی پہچان بنا دیا۔ وہ دن ہمارے والدین کے لےے بہت تکلیف دہ تھے، جب ہم دونوں بھائی بے کار اور آوارہ گلیوں میں گھوما پھرا کرتے تھے۔ صبح گھر سے نکلتے، سارا دن مٹر گشت کیا کرتے، شام کو گھر لوٹ آتے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اولی کرک کی کہانی Ole Kirk

۔۔۔۔۔۔ آخر مجھے نوکری سے نکال دیا گیا۔ میں اپنے والدین کا دسواں بیٹا تھا۔ میرے والدین کی کوشش رہی کہ اپنے تمام بیٹوں کو ہنر سکھا دیں، وہ اپنی روزی کے لےے دوسروں کے محتاج نہ رہیں۔ وہ دوسرے کی نوکری کے حق میں بالکل نہیں تھے۔ ان کے نزدیک جب آپ کے پاس ہنر ہوتا ہے، آپ کہیں بھی ہوں، اس کے ذریعے اپنا پیٹ بھر سکتے ہیں۔ اس لےے انہوں نے ہم تمام بھائیوں کو مختلف ہنر سکھا دےے تھے۔ مجھے بھی ایک کارپینٹر کے پاس ہنر سیکھنے کے لےے بٹھا دیا۔ ان کی نگرانی میں کام سیکھنا شروع کیا اور بہت جلد بڑھئی کے کام میں طاق ہو گیا۔ استاد کی طرف سے اجازت مل گئی کہ آپ باہر جا کر کوئی کام تلاش کریں اور اس کو اپنے روزگار کا ذریعہ بنائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یقینِ محکم، عملِ پیہم

جب میں نے کمپنی شروع کی تو میرے پاس صرف دو ملازمین اور ایک چھوٹا سا دفتر تھا۔ ایک صبح دفتر میں، میں نے دولکڑی کے بکس ایک دوسرے پر رکھ کر اسٹیج بنایا اور اس کے اوپر چڑھ کر دونوں ملازمین کے سامنے تقریر کرنے لگا: ’’میں اس کمپنی کا پریذیڈنٹ ہوں۔ پانچ سال کے اندر ہماری سیل 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہوگی۔ سپلائی کے لیے ایک ہزار ڈیلر ہمارے پاس ہوں گے اور… PC سوفٹ ویئر ڈسٹری بیوشن کے شعبے میں پہلا نمبر ہمارا ہو گا۔‘‘ یہ باتیں بہت یقین، جوش اور بلند آواز سے کہیں تو وہ دونوں ملازمین پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگے اور ان کے منہ کھلے ہوئے تھے۔ وہ مجھے پاگل سمجھنے لگے تھے، لیکن دونوں خاموش رہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ماتحتوں کے لیے

کسی قدر بڑے کاروبار کا آغاز کرتے ہی کام کی آسانی اور بہتری کے لیے آپ کو ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ ملازمین رکھتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ کاروبار کو ترقی دینے میں آپ کے معاون بنیں اور آپ ترقی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں۔ آپ کی کوشش اور چاہت بھی ہوتی ہے کہ ملازمین جان توڑ محنت کریں اور آپ کا بزنس آئیڈیا جلد از جلد بامِ عروج تک پہنچ جائے۔ آپ کی سوچ بجا ہے، لیکن ملازمین بھی اپنے لیڈر اور باس کی طرف دیکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

’’فیلڈ ورک‘‘ نے بند دریچے کھولے

ولیم بوئنگ 1890ء میں ملیریا بخار کی وجہ سے اس دنیا سے چل بسا۔ اپنے پسماندگان میں ایک بیوی مَیری اور تین بچے چھوڑے۔ سب سے بڑا بیٹا آٹھ سالہ ولیم بوئنگ تھا۔ میری نے اپنے خاوند کی و فات کے بعد ایک اور شخص سے شادی کر لی تاکہ بچوں کی پرورش میں آسانی ہو۔ سوتیلے باپ نے ولیم کو Vevey سوئٹرز لینڈ کے ایک اسکول میں داخل کرا دیا۔ ایک سال بعد ولیم نے یہاں سے چھوڑ کر امریکا کے مختلف پبلک اور پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم جاری رکھی،

مزید پڑھیے۔۔۔

پیناسونک کمپنی کے بانی مٹسوشیتا کی جہد مسلسل کی داستان

میری پیدائش Wakayana میں 27 نومبر 1894ء میں ہوئی۔ میرا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا۔ میرے والد صاحب لینڈ لارڈ تھے۔ ایک گاؤں Wasa میں فارمنگ بھی کر رکھی تھی، لیکن حالات نے پلٹا کھایا تو ہماری خوش حالی، تنگ دستی میں تبدیل ہو گئی۔ میرے والد نے چاول کے بزنس میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا، جو ان کے لیے مفید ثابت نہ ہوا اور پورا گھرانہ فاقوں پر آ گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔