ملازمین کے ساتھ اچھے سلوک نے اسے ویگمنز کمپنی کی پہچان بنا دیا۔ وہ دن ہمارے والدین کے لےے بہت تکلیف دہ تھے، جب ہم دونوں بھائی بے کار اور آوارہ گلیوں میں گھوما پھرا کرتے تھے۔ صبح گھر سے نکلتے، سارا دن مٹر گشت کیا کرتے، شام کو گھر لوٹ آتے۔

یہ سلسلہ کافی عرصہ چلتا رہا۔ اس طرح قیمتی ایام ہمارے ہاتھ سے نکلتے گئے اور ہمیں اس کا احساس تک نہ ہوا۔ اس میں ہمارے ماحول اور کم عمری دونوں کا عمل دخل تھا، جو اس سارے خسارے کے ذمہ دار تھے۔ ایک شام کو جب میں گھر واپس آیا تو والدہ بہت پریشان اور رو رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ میں فکر مند ہوا کہ میری ماں کو کیا ہو گیا؟ کیا مصیبت ٹوٹ پڑی ہے؟ پہلے بھی والدہ غمگین رہتی تھیں، لیکن اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو میں نے کم ہی دیکھے تھے۔ میں نے اپنی ماں سے استفسار کیا تو انہوں نے ٹال دیا۔ میرے اصرار پر گویا ہوئیں کہ آج ہمسایوں نے آپ دونوں بھائیوں کی شکایت کی ہے کہ انہوں نے ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اگر آپ اس طرح بے کار اور لوگوں کو تنگ کرتے رہے تو ہماری زندگی برباد اور اجیرن ہو جائے گی۔ جب لوگ والدین سے ان کی اولاد کی برائی بیان کرتے ہیں تو ان سے برداشت نہیں ہو پاتا۔ ماں باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اولاد نیک نامی اور شہرت کا ذریعہ اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے۔ والدہ کی باتیں اپنا اثر دکھا گئیں اور اسی وقت میں نے عزم کیا کہ اپنے والدین کو تکلیف نہیں پہنچنے دینی اور ان کے نیک نامی کا سبب بنوں گا۔ یہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ہم دو بھائی والٹر اور جان تھے۔ میں نے اپنے چھوٹے بھائی والٹرکو اپنی والدہ کی پریشانی بتائی اور ان کی تمام باتیں بتائیں کہ وہ ہم سے کیا توقع رکھتی ہیں۔ والٹر سوچ میں پڑ گیا اور پھر مجھ سے پوچھنے لگا کہ اس کا ازالہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ پہلے اگر ہم لوگوں کو تکلیف پہنچاتے رہے ہیں تو اب ان کے فائدے کے لےے ایسا کام کریں کہ وہ ہماری کارستانیوں کو بھول کر کر ہمارے اچھے کاموں کو یاد کریں۔ پھر لوگ ہماری شکایت کے بجائے ہمارے والدین کے سامنے ہماری تعریف کریں۔
ہم دونوں بھائی سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کون سا کام کرنا چاہےے؟ اس غور و خوض میں سات دن گزر گئے۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اپنے گھر کے سامنے سبزی کی دکان کھولتے ہیں۔ اپنے والدین کی توقعات پر پورا اترنے کے لےے 1916 ء میں ایک اسٹور کھول لیا۔ پہلے دن اتنی آمدنی ہو ئی کہ ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ ہم دونوں بھائی بہت خوش تھے اور والدین بھی۔ اب ہمیں روزگار مل چکا تھا۔ پڑوسی ہماری شرارتوں سے محفوظ ہو چکے تھے۔ راہگیروں کو ہماری چھیڑخانیوں سے نجات مل چکی تھی۔ برے دوستوں سے ہماری بھی جان چھوٹ چکی تھی۔
چھ سال تک یہی ایک اسٹور چلاتے رہے، جو کامیابی کے ساتھ چلتا رہا۔ اس سے ہمیں شہ ملی کہ اس کاروبار کو پھیلایا جائے۔ یہاں ایک فکر لاحق ہوئی کہ ہم تو دو بھائی ہیں، اس ایک اسٹور کو چلانا مشکل ہوتا ہے تو دوسرا اسٹور کون چلائے گا؟ اس پر ہم دونوں بھائیوں نے سوچ و بچار کی تو اس نتیجے پر پہنچے کہ اسی اسٹور کو بڑا کرتے ہیں اور اس میں دوسری پروڈکٹ بھی شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بات بھی ہمارے ذہن میں آئی کہ ہماری طرح کتنے نوجوان ہیں جو بے کار پھرتے ہیں اور والدین کے لےے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ اگر ہم ان کو روزگار مہیا کریں تو ان کے ماں باپ بھی خوش ہوں گے کہ ان کے بچے کمانے لگ گئے ہیں۔
یہ آئیڈیا آتے ہی ہم نے اسی اسٹور میں سبزی کے ساتھ دوسری اشیائے ضرورت بھی فروخت کرنے لگے۔ بیکری اور کیفے ٹیریا کا بھی اضافہ کر دیا۔ اس سے تقریباً بیس نوجوانوں کو روزگار مل گیا۔ اس کے بعد ہمارا بزنس پھیلتا گیا، یہاں تک کہ نیو یارک میں جگہ جگہ ہمارے اسٹور کھلنے شروع ہو گئے۔
ہماری کامیابی کے پیچھے کچھ عوامل کارفرما ہیں۔ بعض لوگ صرف قسمت کو کامیابی و کامرانی کا سبب سمجھتے ہیں۔ اگر آپ کوشش نہیں کرتے اور صرف قسمت پر یقین کر کے بیٹھ جائیں تو کامیابی کبھی آپ کی طرف چل کر نہیں آتی۔ یہ دنیا کا اصول اور قاعدہ ہیں۔ چند ایک واقعات تو مل جائیں گے، لیکن ان کو بنیاد بنا لینا بیوقوفی ہے۔
ہماری تمام تر توجہ اس بات پر رہی کہ جس طرح ہم اپنے کسٹمر کا خیال رکھتے ہیں، ان کو اپنی آمدنی کا ذریعہ گردانتے ہیں، اسی طرح اپنے ملازمین کو بھی ضرور یاد رکھیں گے۔ یہی لوگ ہمارے بزنس کو لے کر چلتے ہیں، یہی ہمارے گاہک بناتے ہیں اور اتنا بڑا سیٹ اپ انہی کے مرہون منت ہے۔ اکیلا آدمی چھوٹا کام تو کر سکتا ہے، لیکن بڑا کام کئی افراد کو اپنے ساتھ ملا کر ہی کرتا ہے۔ اگر آپ بزنس میں کامیابی چاہتے ہیں تو گاہکوں کی طرح اپنے ملازمین کا بھی خیال رکھیں۔
یہ تھے ''Wegmans'' کے بانی جان ویگمین ''John Wegman'' جنہوں نے بے روزگار اور بے کار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی ٹھان لی، تاکہ والدین کے لیے خوشی کا ذریعہ اور ملک و ملت کے خادم بنیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کمپنی تقریباً ہر سال ''جاب کے لیے بہترین جگہ'' کے طور پر سر فہرست رہتی ہے۔ ''Here are the jobs'' اس کی پروفائل اور پہچان بن چکی ہے۔ اور ان 
کا لگایا ہوا پودا آج بھی سرسبزوشاداب ہے اور لوگ اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔