پاکستان میں 96 فیصد تجارت سودی بینکوں سے ہورہی ہے
معروف معیشت دان جناب ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کی ’’شریعہ اینڈ بزنس‘‘ سے گفتگو
٭…16 سال سے ربوا کا مسئلہ سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت میں زیر التوا ہے
٭…عالم اسلام کے سرمایہ کار اپنے ملکوں کے بجائے مغربی ممالک کے اسلامی بینکوں میں سرمایہ رکھوا رہے ہیں
٭…سرمایہ کار بیرون ملک شیئرز خریدنے کے بجائے بیرون ملک اپنی صنعتیں قائم کریں
(آخری قسط)
انٹرویو:عبدالمنعم فائز،ندیم الرشید
ضبط وترتیب:راشد محمود
شریعہ اینڈ بزنس:
بلاشبہ کرپشن اس وقت پورے عالم اسلام بالخصوص ملک پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے، آپ کے خیال میں اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی:
امت مسلمہ کو میرے ان 6 سوالوں پر غور کرنا چاہیے اور انہی میں حل پوشیدہ ہوگا۔
ایک، ’’اسلامک مالیاتی فنڈ‘‘ جس میں اسلامی بینکاری بھی شامل ہے، اس کے اثاثے 13 سو 50 ارب ڈالر ہیں جن میں ہمارا حصہ 23 فیصد ہے، لیکن دنیا میں جو اثاثے ہیں سودی بنیاد پر یہ اس کا صرف ایک فیصد حصہ ہے،  ہمارے پاس اسلامک فنڈز کے تحت جو حصہ ہے، وہ ایک فیصد ہے، 23 فیصد کیوں نہیں ہے؟
دو،اگر آبادی میں ہمارا حصہ 23 فیصد ہے تو GDP میں 23 فیصد کیوں نہیں ہے؟
تین،ایشیا اور یورپ میں کچھ سودی بینک ایسے ہیں جن کے اثاثے، انفرادی بینکو ں کے پاس 57 اسلامی میں اور مغربی ممالک میں جو اسلامی بینکنگ ہورہی ہے اس کے مجموعی حجم سے ایک بینک کے کئی بینکوں سے زیادہ ہے الگ الگ تو اس کی کیا وجہ ہے؟
چار، بیشتر اسلامی ملکوں کی آبادی کا بڑا حصہ، سودی بینکوں سے کام کرنا چاہتا ہے، مگر وہ اسلامی بینکوں سے نہیں کررہا۔ پاکستان میں 4 فیصد لوگ اسلامی بینک میں گئے ہیں اور 96 فیصد لوگ اسلامی بینکوں کے پاس جانے کے لیے تیار نہیں ہیں، بلکہ سودی بینکوں کے پاس جارہے ہیں۔1996 کی ایک انٹر نیشنل کانفرنس میں یہ بات میں نے کہی تھی کہ اسلامی بینکاری کو مغرب ہائی جیک کرلے گا اور آج انہوں نے کرلیا ہے۔ اس طرح سے کہ مڈل ایسٹ میں جو لوگوں کا پیسہ ہے وہ اسلامی لیتے ہیں۔ وہ پیسہ مغرب میں انویسٹ کردیا جاتا ہے تو مغرب اس پیسے سے استفادہ کررہا ہے۔
پانچ، سوویت یونین جب ٹوٹ گیا کیمونزم ختم ہوگیا، سرمایہ دار نظام کو 2008ء میں جھٹکے لگنے شروع ہوتے ہیں۔ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ دونوں مفلوج ہوگئے۔ دنیا یہ کیوں نہیںکہہ رہی کہ بھئی تیسرا نظام بھی ہے۔ اس کو دیکھ لیں۔ اس پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اسلامی معاشی نظام کو دیکھا جائے۔ حالانکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ منصفانہ نظام ہے۔ مسلمان اپنی اس کمزوری کو تلاش کرلیں۔ اس کا جواب ڈھونڈیں۔ اب اس میں آپ یہ دیکھیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کو جو جھٹکے لگے ہیں وہ 2008ء سے زیادہ لگنے شروع ہوئے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے جب کوئی سفیر ہوتا ہے اور اس کی مدت ختم ہوجاتی ہے تو جب تک وہ سفیر ملک سے چلا نہیں جاتا وہ عزت و احترام کے لحاظ سے سفیر رہتا ہے۔ ملا ضعیف کے لیے اقوام متحدہ نے ایک خط لکھا تھا کہ جو طالبان حکومت کے پاکستان میں سفیر ہیں کہ جب تک یہ پاکستان سے چلے نہیں جاتے تب تک یہ ان کا عزت و احترام کرنا آپ کی قانونی ذمہ داری ہے۔ لیکن مشرف نے ان پر تشدد کیا اور امریکا کے حوالے کردیا تو اس وقت امت کا تصور کہاں چلا گیا تھا؟
شریعہ اینڈ بزنس:
دنیا میں جتنی بھی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جن کے بعض اوقات ایک کا بجٹ بھی بعض اوقات کئی ملکوں کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ اسلامی ملکوں میں کیوں نہیں پیدا ہو سکیں؟
ڈاکٹر شاہد حسن:
مسلمان تمام تر مادی وسائل کے ہونے کے باوجود اپنا پیسہ مغرب میں رکھنا مناسب خیال کرتے ہیں۔  دوسرے یہ کہ وہ اپنے ملکوں میں پیسہ رکھنے کی بجائے جو بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں ان کے شیئرز خریدتے ہیں۔ ان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور یہ اس میں معاونت کررہے ہیں اس نظام کو تقویت پہنچانے میں۔
شریعہ اینڈ بزنس:
مسلم ممالک کی درآمد و برآمد آپس میں زیادہ تر کیوں نہیں ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن:
دوچیزیں ہیں: پہلی چیز تو یہ کہ OIC اور ایک اسلامک چیمبر آف کامرس ہے یہ دونوں کوئی مؤثر ادارے نہیں ہیں۔پاکستان میں جو انرجی اور امن وامان کا مسئلہ ہے۔ بے یقینی ہے، یہ نہیں ہونی چاہیے ۔ جب تک اپنے ملک کے شہری اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیںکریں گے تو دوسرے لوگ یہاں کیوں آئیں گے؟ اسی طرح اسلامی ملکوں میںہم چیز امپورٹ کرتے ہیں اس کی لسٹ بنالیں۔ پھر یہ دیکھا جائے کہ یہ چیز اس کی کس اسلامی ملک میں صنعت لگائی جاسکتی ہے۔ وہ اسلامی ملک کی جس میں لیبر بھی ہے اور خام میٹیریل بھی ہے لیکن سرمایہ نہیں ہے۔ جو ملک کہیں اور امپورٹ کررہا ہے وہ اس اسلامی ملک سے امپورٹ کرے۔ وہاں خود صنعت لگائیں۔ اگر وہاں صنعت لگائیں۔ وہاں خام مال بھی ہے اور لیبر بھی ہے۔ آپ اپنے پیسے سے اس ملک میں صنعت لگائیں۔ اونر شپ آپ کی ہوگئی تو وہ چیز پیدا ہو تو آپ اس کو امپورٹ کرلیں۔ یہ اس کا واحد طریقہ ہے اس میں دونوں کا فائدہ ہے۔
شریعہ اینڈ بزنس:
عالم اسلام میں کن ممالک کی معیشت بڑھ رہی ہو؟
ڈاکٹر شاہد حسن:
ملائشیا اور ترکی کی معیشت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے ملک کی ترقی کو اہمیت دی اور باہر سے ڈکٹیشن نہیں لیا۔ ملائشیا اور ترکی دو ہی ملک ہیں جن کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ترقی کر رہے ہیں۔
شریعہ اینڈ بزنس:
شریعہ اینڈ بزنس اس حوالے سے کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی :
میں آپ کے میگزین کے توسط سے عالم اسلام اور پاکستان کے موثر حلقوں کے نام چند سفارشات کرنا چاہتا ہوں، مگر ان سفارشات سے پہلے تین باتوں نوٹ کی جائیں:
1   یہ کہ آئین پاکستان کی شق 3 میں کہا گیا ہے کہ ریاست ہر قسم کے استحصال کا خاتمہ کرے گی۔ لیکن ہمارا پورا نظام استحصال پر ہے۔ جس میں ٹیکسوں کا نظام بھی ہے۔ بینکاری کا نظام بھی ہے اور دوسری تمام معاشی  پالیسیاں۔
2  آرٹیکل 37 ہے اس میں یہ کہا گیا تھا کہ ریاست جلد اور سستہ انصاف فراہم کرے گی۔ یہ بھی نہیں ہورہا۔
3  آرٹیکل 38 میں کہا گیا ہے کہ سماجی اور معاشی بہتری کے لیے جلد از جلد ’’ر بوا‘‘ کا خاتمہ کیا جائے گا اور شق 227 میں کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ قوانین کو اسلام کے مطابق کیا جائے گا اور جو نئے قانون بنیں گے وہ قرآن و سنت کے مطا بق ہوں گے۔ ملک میں آئین کی بالا دستی کی جو باتیں ہورہی ہیں ان میں سے کوئی یہ بات کیوں نہیں کرتے؟ !س پر کوئی نہیں بولتا اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اﷲ کے غضب کو کیوں دعوت دے رہے ہیں۔
 16 سال سے ربوا کا مقدمہ سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت میں زیر التواء ہے اور اب بھی ہے۔ مشرف کے زمانہ میں ایک میٹنگ 4 ستمبر 2001ء کو ہوئی تھی اس میں متوازی نظام بینکاری کے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اور اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا کہ آپ اسلامی بینکاری کا نظام نافذ کریں اس کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا اور یہ کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ 24 جون 2002ء کو یہ فیصلہ 23 دسمبر 1999ء کو آیا تھا۔ تو 23 دسمبر 1999ء کو جو فیصلہ تھا سود کو حرام قرار دینے کا (میں اس میں سپریم کوررٹ کا مشیر تھا)۔ اب انہوں نے 24 جون 2002ء کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے بعد سے سماعت ہی نہیں ہوئی۔ کوئی آدمی یہ مطالبہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ 11 سال سے سماعت کیوں نہیں ہورہی؟
اب میری چند سفارشارت ملاحظہ فرمالیں:
1  اسلامی ملکوں کو پہلے انفرادی اصلاح کرنی ہوگی اور معاشرے کو اسلامی خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ اسلامی نظام معیشت اپنانا ہوگا۔ قوانین کو اسلام کے تابع کرنا ہوگا۔ کرپشن پر قابو پانا ہوگا اورانفرادی طور پر  احتساب کا عمل شروع کرنا ہو گا۔
2   اپنے مالی وسائل خود بڑھائیں۔ اس میں ایک بچتوں کی شرح ہے اور دوسرا سرمایہ کاری کی شرح اور سرمایہ  کاری کا ماحول بہتر بنائیں۔ پھر باہر سے سرمایہ آئے گا۔
3  آپس میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھائیں۔ ہمارا جو زکوۃ کا نظام ہے اس کو رزق فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا گیا۔ اسلام کا جو زکوۃ کا نظام ہے، اس پر اگر تحقیق کریں تو یہ اسلامی دنیا ہے اور انفرادی اسلامی ملکوں میں غربت ختم کرسکتا ہے۔ دنیا میں کوئی اور ایسا نظام موجود نہیں جو غربت کو اس حد تک ختم کرسکے، لیکن زکوۃ کا نظام اسلام کی روح کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد بھکاری پیدا کرنا نہیں ہے۔ اس کا جو طریقہ ہے وہ یہ کہ مائیکرو فنانس کے ساتھ اس نظام زکوۃ کو منسلک کردیں۔ لوگوں کو نئے کاروبار کھول کر دیں، انہیں مستقل گزر اوقات کے لیے ذرائع مہیا کریں۔
4   ایک مسلم عالمی بینک قائم کیا جائے۔
 5   اسلامک مانیڑی فنڈ بنایا جائے۔ تاکہ IMF سے پیچھا چھڑایا جا سکے۔
6   OIC کے تحت ترقی کے لیے ہر سال کچھ فنڈز مختص کریں اور دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے منصوبے شروع کریں۔
7   OIC نے جو گزشتہ 10 برسوں میں فیصلے کیے ہیں۔ ان پر عمل درآمد کرایا جائے۔
8   علمائے کرام مسلمانوں کو اپنی دولت مغربی ممالک میں رکھنے سے منع کریں۔