چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیے

ایک صاحب نے اپنی زندگی کا آغاز معمولی ملازمت سے کیا اور پھر ایک بڑا تاجر بن گیا۔ اس کا کہنا ہے: ''جب میں دو سو روپے کا ملازم تھا تو میں اپنے آپ کو سو روپیہ کا آدمی سمجھتا تھا۔ اب میرا کاروبار دو کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے تو میں خود کو صرف ایک کروڑ روپیہ کا آدمی سمجھتا ہوں۔'' اس آدمی نے یہ بات سادہ طور پر کہی۔ مگر یہی زندگی میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ اکثر حالات میں آدمی صرف اس لےے ناکام رہتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں کچھ زیادہ ہی خوش فہمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی حقیقی استعداد سے زیادہ بڑا قدم اُٹھا لیتا ہے، وہ ''کم'' پر قناعت نہ کرتے ہوئے ''زیادہ'' کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔
کاروباری ضابطے
کچھ ضابطے ایسے ہوتے ہیں جو ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مثلاً: والدین کا احترام، حاجت مندوں کی سرپرستی، سماجی بہبود اور پڑوسیوں کا خیال رکھنا،وغیرہ۔ گاہکوں کو اپنا بنانے کے لےے یہ ضابطے ہمارے رہنما اصول ہیں، جن کے تحت گاہکوں کا احترام کرنا، اسے عمدہ سروس مہیا کرنا اور ہر طرح کے لین دین میں دیانت داری اور شفاف رہنا ہمارا فریضہ ہے۔ ان ضابطوں کی ضرورت اس لےے بھی ہوتی ہے کہ ہم اپنی کمپنی کا کاروباری عقیدہ درست رکھیں اور گاہکوں، ملازمین اور کمپنی سے وابستہ دوسرے لوگوں کے لےے عمدہ طرز عمل رکھیں۔
گرم طبیعت
بہت سارے لوگ اپنی گرم طبیعت کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ترقی کا موقع سامنے ہوتا ہے، لیکن وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھڑک اٹھتے ہیں، نفرت میں اکڑ جاتے ہیں اور موقع ان کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے۔ بعد میں ہاتھ ملنے اور پچھتاتے رہنے کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں رہتا۔ دل کو تسلی دینے کے لےے کہہ دیتے ہیں کہ ہم اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ یہ کہہ کر بھی وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ کبھی اپنے من کے اندر، اپنے من کی گہرائی میں ڈوب کے اپنے حالات کا جائزہ نہیں لیتے۔ کبھی اپنے آپ کا تنقیدی جائزہ نہیں لیتے۔ اگر وہ کبھی سچے دل سے سوچیں تو وہ یہ جان سکتے ہیں کہ جو کچھ بھی وہ کرتے آ رہے ہیں، غلط ہے۔ جو کچھ بھی ان کے ساتھ بیت رہا ہے، اس کو ٹالا جاسکتا ہے۔ ان کے مستقبل کو بدلا جاسکتا ہے۔ اگر وہ اس کے لیے آمادہ ہیں۔