سوال
دوپارٹنر ہیں: ایک سلیپنگ اورایک ورکنگ، سلیپنگ پارٹنر کا سرمایہ ڈبل ہے، اس کے باوجود کیا ورکنگ پارٹنر تنخواہ مقرر کر سکتا ہے یا منافع میں کچھ حصہ زیادہ مقرر کیا جا سکتا ہے؟

جواب
نفع میں زیادہ حصہ مقررکیاجاسکتاہے۔
سوال
کیا زکوٰۃ کے لیے رقم الگ سے نکالی جاسکتی ہے؟ ہر ماہ اورسال کے آخر میں اس کی تقسیم کس طرح ہوگی، اگر ایک پارٹنر کا سرمایہ ایک لاکھ ہو اوردوسرے کا دولاکھ تو اس کی تقسیم کی صورت کیا ہوگی؟
جواب
اموال زکوٰۃ کا اصل حساب تو سال پورا ہونے پر ہو گا، ہر ماہ اندازہ سے زکوٰۃ کی مدمیں رقم نکال لیں اور سال کے اختتام پر حساب ایڈجسٹ کر لیں ایسا بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہر شریک کی زکوٰۃ کا الگ الگ حساب ہوگا کیونکہ ان کی زکوٰۃ کی تاریخ الگ الگ ہو گی، نیز قرضے بھی مختلف ہوں گے ۔
نوٹ: زکوٰۃ کا رسالہ ہماری ویب سائٹ سے پڑھ لیں تاکہ جزوی باتوں کی وضاحت ہو جائے۔
سوال
کیا اپنے کاروبارمیں گھر بیٹھی بچی اورزوجہ کو بھی پارٹنر بنایا جا سکتا ہے؟
جواب
آپ انہیں ہدیہ یا ادھار دے کر سرمایہ کاری کروا لیں۔
سوال
ایک مینوفیکچرنگ یونٹ روزانہ کی بنیاد پر پروڈکشن کرتا ہے اورروزانہ کی بنیاد پر ہی تیار مال کی خرید و فروخت بھی کرتا ہے۔ فروختگی، حاضر مال اور فارورڈ پروڈکشن دونوں صورتوں میں کی جاتی ہے۔ مال تیار کرنے کے لیے خام مال بھی روزانہ کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، کبھی کبھار کم کبھی زیادہ۔ جس کی وجہ سے کبھی ایسی صورت بھی ہو جاتی ہے کہ خام مال کی جتنی انونٹری Book ہوتی ہے، اس سے زیادہ کا مال فروخت کر دیا گیا ہوتا ہے اور پھر ظاہری طور پر Forward Speculation کا عنصربھی شامل ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی صورت میں جب خام مال کی Purchase Booking کم ہو اور مال زیادہ کا فارورڈ بیچ دیا گیا ہو، صحیح ہے؟ اگر نہیں تواس کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے جبکہ یہ بھی ممکن نہیں کہ ہر دفعہ مال بیچنے سے پہلے اس کا خام مال بک کیا جائے۔
جواب
جب مال موجود نہ ہو تو آپ مال کی بیع نہ کریں بلکہ وعدہئ بیع کر لیں، جس میں قیمت اور بیچی جانے والی چیزکے تمام اوصاف طے کیے جاسکتے ہوں۔ پھر جب مال تیار ہو جائے تو الگ سے ایجاب و قبول کر لیں یا اسی طرح انوائس بنا کر مال بھیج دیں، ان کے قبول کرنے سے بیع منعقد ہو جائے گی۔
سوال
ایک بھائی، پانچ بہنیں اور ایک والدہ ہیں۔ تین بہنیں شادی شدہ اور دو غیر شادی شدہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ترکہ فی الحال تقسیم نہیں کر رہے، لیکن جو فیکٹری سے پیسے آ رہے ہیں اگر وہ ہم گھرکے خرچ میں استعمال کر رہے ہیں تو کیا اس میں سے شادی شدہ بہنوں کو حصہ دیا جائے گا؟ جس گھر میں ہم رہ رہے ہیں کیا اس کا کرایہ لگا کر ہم شادی شدہ بہنوں کو حصہ دیں؟ ہم وہ گھر جوکہ وراثت بن چکاہے اس کو استعمال کررہے ہیں۔
جواب
اگر تما م ورثاء کے فی صدی حصص متعین کر دیے جائیں پھر چاہے کاروبار اسی طرح چلتا رہے، گنجائش ہے۔ البتہ جو ورثاء دوسروں کا ترکہ ان کی اجازت کے بغیر استعمال کریں گے، وہ غصب کے حکم میں ہو گا، اس کا کرایہ ان کے ذمہ ہو گا۔ ہاں! اگر وہ ورثاء بالغ ہوں اور اپنی مرضی سے کرایہ نہ لیں تو بھی گنجائش ہے۔
سوال
میری دکان میں میرے دو بھائی میرے ساتھ کام کرتے ہیں مگر میں دکان پر وقت کم دیتا ہوں، دونوں بھائی ہی دکان پر کام کر رہے ہیں۔ میں صرف دکان پر رقم دیتا رہتا ہوں۔ بھائیوں کو نفع میں سے کچھ حصہ دیتا ہوں، جیسے اگر نفع 2000 کا ہوا تو اس نفع کے دو حصے کرتا ہوں، ایک حصہ دکان پر واپس لگا دیتا ہوں اور ایک حصے میں سے چھوٹے بھائی کو ساتواں، جبکہ اس سے بڑے کو تیسرا حصہ دیتا ہوں، جبکہ میں فی الحال دکان سے کچھ نہیں لیتا۔ کیا شرعاً ایساکرنا درست ہے؟
جواب
یہ اجارہ فاسد ہے، لہذا نفع سارا آپ کا ہو گا، بھائیوں کو ان کے کام کی اجرت جو اس جیسے کام کی مارکیٹ میں ملتی ہو، آپ کے ذمہ لازم ہوگی، چاہے آپ کو نفع ہو یا
نہ ہو۔

۔2 اگر یہ فنڈ کٹوتی ہونے کے بعد کمپنی کی کسی کمیٹی (جس میں ملازمین کی طرف سے بھی نمائندگی ہو) یا خود ملازمین کی کمیٹی کے تحت سودی معاملات میں استعمال کیا جاتا ہے یا کسی دوسرے ادارے کو ملازمین کی اجازت سے سپرد کیا جاتا ہے، ان تمام صورتوں میں اضافی رقم لینا جائز نہیں۔ اس لیے کہ ملازمین کی کمیٹی کے قبضہ کرنے سے یہ رقم ملازمین کے قبضہ میں شمار ہوگی، اب اگر اسے سودی معاملات میں لگایا جاتا ہے تو یہ سود ہی ہو گا۔
3 تیسری صورت یہ ہے کہ ہو تو نمبر 1 میں بیان شدہ صورت ہی، لیکن جبری کے بجائے اختیاری ہو یعنی کٹوانے یا نہ کٹوانے کا اختیار ہو، اس صورت میں سود تو نہیں ہے، لیکن سودی لین دین سے مشابہت ہے، لہذا احتیاطاً اس سے بھی بچنا چاہیے۔
(احسن الفتاویٰ 270 / 4، پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ اور سود کا مسئلہ: ص 4,26)